نقطہ نظر

شوگر ڈیڈی

4
0

کل ہی میڈیا کے ”لائیو سٹریم،، پر یہی کچھ دیکھا جو عا ئشہ نے کیا،حالات کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشی کے واقعات میں میڈیا کی حوصلہ افزائی کو کیا نام دیں؟ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اسلامی معاشرے کے باسی ہیں، خود کشی کو کسی صورت بھی ہوا نہیں دینی چاہئے،آخرت کی زندگی کو فراموش کرنے والی سرگرمیاں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب ہیں،وطن میں عورتوں کے مسائل کے سدِ باب کے لئے مختلف ادوار میں حکومتیں قانون سازی کرتی رہیں لیکن سماجی پیچیدگیوں اور قانون کی کمزور گرفت کی بنا پر عملدرآمد نہ ہو سکا،ہمارے ہاں غریب اور پسماندہ
طبقے کی خواتین ذیادہ تر مقامی روایات کا شکار ہوتی ہیں جن میں مرد کو حاکمِ اعلی کا درجہ دیا جاتا ہے، اکیسویں صدی کی عورت پھر وہی جدو جہد کر رہی ہے جو اس نے 1400سال قبل کی تھی،آج حقوقِ نسواں کے کھوکھلے نعرے اسے فریب کے سوا کچھ نہ دے سکے،اسی لئے کہا گیا ہے،
پابند ِ رہ و رسم مجھے کرتے ہیں کچھ لوگ
ٹوٹے کی رواجوں کی زنجیر کے میں ہوں
آج عورت کو شو پیس بنانے میں کس کا ہاتھ ہے؟اس کی زندگی مقابلتی بن چکی ہے، قابلیت اور ٹیلنٹ تو گئے بھاڑ میں، حال ہی میں ہماری ملاقات نامیہ (فرضی نام) سے ہوئی وہ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کی طالبہ ہے، کرونا کی وجہ سے ادھر آ ئی ہو ئی ہے اس نے بتایا کہ وہاں قرض میں پھنسی طالبات شوگر بے بی بننے کو ترجیح دیتی ہیں ”شوگر ڈیڈی،،کے نام سے ایک ویب سائٹ اس سلسلے میں ان کو رجسٹرڈ کرتی ہے، افسوس تو یہ ہے کہ اس میں مسلمان اور ایشین ممالک کی لڑکیاں بھی رجسٹرڈ ہوتی ہیں بڑی عمر کے امراء جو ہر قومیت کے ہوتے ہیں،کے لئے یہ ایک شکار گاہ ہے، اکثر لڑکیوں نے اپنی فیس اور دوسرے اخرا جات کی تکمیل کے لئے ایک سے ذیادہ شوگر ڈیڈی رکھے ہوئے ہیں،کیش، تحائف اور تفریحی سرگرمیاں ان کے لئے بہت اہم ہیں ان کا کہنا ہے،اس سے پہلے جگہ جگہ نوکریاں کرنے سے اتنا بھی نہیں ملتا تھا کہ فیس بھی دی جا سکے،والدین کو کہنا بھی اچھا نہ لگتا تھا اکثر تو والدین کو یہی بھروسہ دیتی ہیں کہ انہیں یونیورسٹی ٹائم کے بعد اچھی ملازمت مل گئی ہے اس طرح وہ ان کی بھی کفالت کرتی ہیں، ”شوگر کی دنیا بالغوں کے لئے ڈزنی کے پلے گراؤنڈ جیسی ہے /نامیہ کے پاس معلومات کا خزانہ ہے،سب کچھ سن کر بہت افسوس ہوا،اکثر والدین ان حالات سے بے خبر ہیں جبکہ اکثر لڑکیاں مذہبی خاندانوں سے ہیں /
قارئین! ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ہم نے خود کو غیر ضروری ترجیحات کی زنجیروں میں جکڑ لیا ہے،لالچ نے ہمارے ذہن آلودہ کر دئے ہیں اس طرح کہ ان میں سے صاف ہوا بھی نہیں گزر سکتی،دکھ تو یہ ہے کہ ہم صنفی تفریق سے باہر نہیں آئے، عورت استحصال ذدہ حالات کا مقابلہ نہیں کر پا رہی،بیاہنے کے بعد اسے عورت کے ہی دوسرے روپ کا سامنا ہوتا ہے جو اس کی نئی زندگی میں رنگ بھرنے کی بجائے بے رنگی پر تلا ہوتا ہے،یہاں ایک اور حقیقت کا بھی ذکر ضروری ہے،تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ہم یکطرفہ کہانی سن کر حتمی فیصلہ
نہیں کر سکتے،آج لڑکی والے بھی خوب سے خوب تر کی تلاش میں اپنی بیٹیوں کو اوور ایج کر رہے ہیں جس کی انہیں پرواہ نہیں، والدین کی وجہ سے ہی بیٹیوں کے ذہن خوابوں کی دنیا میں پہنچ چکے ہیں لڑکیوں کو اکیلا لڑکا چاہئے جو انہیں ہیروں میں تولے، برداشت ختم ہو چکی ہے نیا گھر اور اس کا ماحول پسند نہیں تو واپسی کا سفر آسان ہے کیونکہ ان کے سامنے اور نئے راستے موجود ہیں خواہ ان میں کتنی ہی ذلت ہو لیکن انا کو ٹھنڈنک تو مل گئی،رشتے برداشت سے بنتے ہیں اور قائم رہتے ہیں،یہی آجکل ختم ہو چکی ہے ”انا، بناوٹ،،نے کچھ بھی کر گزرو کے مائینڈ سیٹ کر دیئے ہیں، بے جا امیدیں بھی تلخیوں کو جنم دیتی ہیں، ان کی تعداد دتنی ذیادہ ہے کہ ضبطِ تحریر میں لانا مشکل ہے، معاشرتی کمزوریوں کی وجہ سے یہ رشتہ دن بدن نفرتوں اور سازشوں کا شکار ہو رہا ہے،
آج معاشرے کو دینِ اسلام کی تربیت کی ضرورت ہے ہمیں اس کے زریں اصولوں کی ترویج میں پیچھے نہیں رہنا چاہئے جس کی شروعات گھر سے ہونی چاہئے،گھر ایک معاشرے کی پہلی اکائی ہے، صبر و قناعت کا سبق یہیں سے شروع ہوتا ہے پھر کوئی بھی شوگر ذیڈی یا شوگر ممی کا سوچے گا بھی نہیں،اس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں کا شمار ہے…

4
0

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button