اہم خبریںپاکستانرپورٹسعودی عربسمندر پارپاکستانیمراسلات

بیرونِ ملک پاکستانی اور تین ارب ڈالر کا نقصان

12
0

بیرون ملک پاکستان ہر سال تقریباً تین بلین امریکی ڈالر کا نقصان کرتے ہیں ۔ اعدادوشمار کے مطابق بیرون ملک بسنے والے قانونی اور غیر قانونی طور پر پاکستانیوں کی تعداد دس ملین کے قریب ہے جن میں سے تقریباً چالیس فیصد وہ لوگ ہیں جو غیر تعلیم یافتہ مزدور ہیں اور انتہائی نامساعد حالات میں زندگی گذارتے ہیں ان کا کام کسی انتہائی کم اجرت یعنی دس ڈالر دن سے کم پر ہوتا ہے ان کے پاس کوئی مہارت یا ھنر موجود نہیں ہوتا چناچہ تمام عمر گذار دینے کے باوجود ان کے خاندان کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنی بری حالت اور قابل رحم کام کے ماحول کی وجہ سے ملک کی بدنامی کا باعث بھی بنتے رہتے ہیں جس کی بڑی وجہ جہالت اور ناخواندگی اور بیرون ملک قوانین کی سمجھ بوجھ نہ ہونا ہے ۔

حکومت پاکستان اب تک کوئی ایسا نظام مرتب کرنے میں ناکام رہی ہے جن سے ان بیرون ملک جانے والے نچلے درجے کے مزدوروں کو منظم کیا جاسکے اور ان کو کوئی معمولی ہنر سکھا کر ان کی آمدنی بڑھائی جاسکے یا پھر بیرون ملک عملے کے زریعے ان کی رہنمائی کی جاسکے ۔
اس بات کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے کہ کس نظام کے تحت ان کو باہر بھیجا جا رھا ہے اور کے حقوق کا تحفظ کیسے ہوگا ۔ صحت اور رہائش کے انتظامات کیسے ہیں اور کیا ان کے مکمل کوائف اور ڈیٹا حکومت کے پاس موجود رہتا ہے جس سے کسی مصیبت اور مشکل میں ان کی مدد کے جاسکے ۔ یا پھر ان کے خاندان کو پاکستان میں کیا دشواریاں پیش آتی ہیں ۔
ھنر اور معمولی درجے کا بھی علم نہ ہونے پر یہ چالیس فیصد طبقہ ایک ممکنہ بہتر آمدنی اور معیار ِ زندگی تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے جس کا سالانہ خسارہ کم سے کم تین بلین امریکی ڈالر تک لگایا ہے ۔
اوسطاً ایک بھارتی مزدور پاکستانی مزدور سے ڈیڑھ فیصد زیادہ منافع بخش ہے ۔ فلیپائن اپنی بیرون ملک افرادی قوت کو ضرورت حالات اور دوسرے ملک کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے تیار کرتا اور بھیجتا ہے ۔ جبکہ پاکستان اس بات کا کوئی اھتمام بھی نہیں اور ساتھ ساتھ اس طرف کوئی شعور بھی نہیں ۔
بیرونِ ملک پاکستانی تنظینیں اور متحرک افراد بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتے اور ناہی ایسے خبریں عموماً اخبارات اور شہ سرخیوں کا حصہ بنتی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ ہماری پڑھی لکھی آبادی کی بنیادی قومی مسائل سے لاتعلقی اور آگہی نا ہونا ہے اور محسوس کیا گیا کہ ہماری اکثریتی کمیونٹی شخصی شہرت ذاتی عناد تعصب اور نسلی امتیاز اور فردی فوائد پر منحصر عوامل میں ہی کارفرما رھتے ہیں جس سے اجتماعی قومی مفاد اور تشخص پامال ہوتا ہے اور ہمارا یہ رویہ عمومی طور پر تمام ممالک میں یکساں ہے جو ہمارے معاشرتی بگاڑ کی عکاسی کرتا ہے

12
0

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button