اہم خبریںپاکستانرپورٹسعودی عربسمندر پارپاکستانینقطہ نظر

قلم فروش درندے دانشور

33
1

پچھلے دنوں محترم عشرت حسین صاحب کا آرٹیکل نظر سے گزرا جس میں انھوں نے بہت تفصیل سے بنگلہ دیش کی ترقی کا احاطہ کیا اور پاکستان اور بھارت سے اس کا تقابلی موازنہ بھی کیا ۔ اور بہت باریکی سے مختلف پہلووں پر دانشورانہ نظر ڈالی جو کہ بطور طالب علم ایک علم افزاء عمل رہا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نصف صدی سے ذیادہ کا حصہ طاقت کے ایوانوں میں گزارنے کے بعد تقریبا تمام ممکنہ مسائل پر کتاب لکھ کر اس کا ایک سے ذیادہ حل بتا کر ایک بار پر اقتدار کی راہ داری میں اپنی کتاب بیچ کر اور اختیارات ہونے کے باوجود صرف اشرافیہ طرز پر ذاتی مال و متاع سمیٹ کر خاموشی سے مزید پانچ سال گزر جانے کا انتظار کرنے والے عشرت حسین کو نظام پر تنقید کرتے ہوئے اپنے جرائم کو پوشیدہ رکھنے کا کوئی اختیار نہ تھا ۔
خود ذمہ داری اٹھانے کے بجائے نظام کو کوسنے کی اس مفلسانہ روش عشرت حسین جیسے لوگوں کو زیب نہیں دیتی جو اس خود وہ خون چوسنے والے کیڑے ہیں جو اس نظام میں رہ ہر غریب کا احتصال کرتے ہیں

بھلا وہ کون سا علم تھا جو بنگلہ دیش کے یونس صاحب کے پاس تھا مگر عشرت صاحب کے پاس نہیں وہ کون سا کام تھا جو گرامین بینک تو کرسکتا تھا مگر پاکستان کا کوئی بینک نہیں

یا وہ کون سے سیاسی اور معاشی داو پیچ تھے جو حسینہ واجد کو تو اس کے مشیروں نے بتا دئیے مگر عشرت حسین کو کہتے دانت ٹوٹتے تھے ۔کیا کسی بنگالی مشیر کے پاس وقت ہے کہ وہ کالم لکھتا رہے ؟ یہ مثال کیوں نہ دی عشرت صاحب نے ؟

۔ فرق صرف ایمانداری کا تھا ۔ بنگلہ دیش کا مرکزی بینک بہترین پالیسیاں بناتا رہا جبکہ پاکستان کے مرکزی بینک کا صدر عشرت حسین کتابیں لکھتا رہا ۔

پھر وہ کتاب ایک الفاظ کے گرداب میں گرے وزیراعظم کو بیچ کر مزید پانچ سال عیش و “عشرت” میں گزار کر اب اپنا منہ پہ کالک ملنے کے بجائے اخباروں کے صفحے کالے کرتا پھر رہا ہے ۔ قائداعظم نے ایسے ہی ضمیر فروش دانشوروں کو معاشرے کا سب سے بڑا ناسور قرار دیا تھا ۔
یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح مفرور و سابق افغان صدر اشرف غنی نے ایک کتاب لکھ کر امریکیوں کو باور کروایا کہ وہ ایک ناکام ریاست کو چلانے کا فن خوب جانتے ہیں اور پھر انجام آپ کے سامنے ہے ۔ بالکل اسی طرح عشرت حسین جیسے مجرم دانشور پاکستان کا بھی وہی حال کئے بیٹھے ہیں۔

افغان صدر میں تو پھر اتنی اخلاقیات ہیں کہ وہ آج بھی خاموش نہیں اور اپنی غلطی کا اعتراف اور اس کا مداوا کرنے یا پھر کم سے کم دفاع کرنے سامنے آتا رھتا ہے مگر پاکستانی معاشرے کے دستور کے مطابق عشرت حسین جیسے لوگ صرف ذاتی آسودگی پر اکتفا کرکہ اپنے کفارے کتابی شکل میں ہمارے منہ پر دے مارتے ہیں اور ہم ہیں کہ انھیں عزت داروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ یہ بالکل ہمارے انھی جرنیلوں اور بیروکریٹ کی طرح ہے جن کو ایمان اور احساس ریٹائرمنٹ کے بعد آتا ہے ۔ میری دانست میں ایسے لوگوں کو باقائدہ سزائیں ہونی چاہیں جن کی تحریر کام علم اور عمل میں اسقدر فرق اور بدیانتی ہو

وہ علم جس سے کسی کو فائدہ نہ ہوا
ہمارے لئے برابر ہے ہوا نہ ہوا

میں ایک عام پاکستانی کے طور پر ایسے عالم علم اور عقل پر سوائے افسوس اور غم کے اور شاید نہ کچھ کرسکوں کیونکہ پھر شاید یہ تحریر چھپنے کے قابل نہ رہے ۔

قلم بیچ کر خرید لئے منصب تم نے
ملک لٹتے رہے تم کتابیں لکھتے رہے

 

میں اس آرٹیکل کا ربط ذیل میں دے رہا ہوں تاکہ آپ میرے جذبات کا صحیح اندازہ کرسکیں

https://www.dawn.com/news/1664104

 

33
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button