اہم خبریںپاکستاندنیا بینمراسلات

بھارت میں پھر محمد علی جناح کی گونج

10
0

بھارتی ریاست اتر پردیش کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے اکلیش یادیو کے بیان نے بھارت میں کھلبلی مچا دی ہے جس میں انھوں نے محمد علی جناح کو آزادی کا استعارہ قرار دے کر گاندھی سردار پٹیل اور محمد علی جناح کو ایک ہی سوچ کا نام دیا ۔
واضح رہے کہ حکمران بی جے پی جیسی دائیں بازو کی پارٹی کے ایل کے ایڈوانی اور دوسرے رہنما بھی گاہے بگاہے محمد علی جناح سے حد درجہ اختلاف کے باوجود بھی متعرف رہے ہیں اور بھارتی انتخابات میں جناح کی سیاست متعد بار زیر بحث رہی ۔ مگر اب وہ اس بیان کی سختی سے مذمت کررہے ہیں حتی کی اسد الدین اویسی کا پارٹی بھی اپنے آپ کو اس سے دور کررہی ہے تاکہ انتہا پسند ھندوں کو کوئی بہانہ نہ مل سکے
مسلمانوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی ناانصافیوں اور ھندووتا کےبڑھتے رجحانات اور حکمران ھندو انتہا پسند پارٹی کے یکطرفہ اقدامات نے ایک دفع پھر محمد علی جناح اور دو قومی نظرئیے کو دوبارہ زندہ کردیا ہے ۔
: خاص طور ہر کشمیر پر سخت گیر موقف اور حالیہ کرکٹ کے مقابلوں میں کشمیری طلبہ کی پاکستان حمایت اور کشمیر کے الحاق کے اقدامات نے اسے مزید گہرا رنگ دے دیا ہے اور سماج وادی پارٹی مسلمانوں کے ووٹ کے لئے اب جناح کے کارڈ کو کافی سمجھداری سے بھارت کے قانون کے اندر رہ کر استعمال کررہی ہے جس سے بھرتی میڈیا میں ایک طوفان بپا ہے
ناقدین اس کو اس زاویے سے دیکھ رہے ہیں کہ تمام تر نظریاتی تبدیلیوں اور پاکستان اور مسلمان مخالفت کے باوجود محمد علی جناح کی چھاپ بھارت میں بہت گہری ہے اور پاکستان ایک مرکزی نقطہ اور بحث کا مرکز رھتا ہے
جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں بھارت نہ تو انتخابات کا کوئی موضوع ہوتا ہے نہ ہی کوئی نظریاتی نقطہ جس سے کوئی پارٹی کو سیاسی مفاد نکالنے کی کوشش کرے
اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں بھارت میں یہ باتیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں بالخصوص علیحدگی کی بڑھتی تحریکوں کے تناظر میں پاکستان اور جناح کس حد تک زیر بحث آتے رہیں گے؟

10
0

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button