نقطہ نظر

پاکستان سیٹیزن پورٹل،شکایات کے فالواپ کا کوئی نظام نہیں 

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیداد پر قبضہ کی شکایات عام لیکن کوئی شنوائی نہیں

3
0

تحریر/یاسمین طہٰ

میں کینیڈا میں رہتا ہوں پلاٹوں پر قبضہ کی شکایت سیٹیزن پورٹل پر درج کی تھی،جس کا فوری جواب ملا کہ متعلقہ علاقے کے ڈپٹی کمشنر کو شکایت فارورڈ کردی گئی ہے،اس بات کوکئی ماہ گذر چکے ہیں آج تک مجھ سے اس حوالے سے کسی  سرکاری دفتر  نے رابطہ نہیں کیا،پاکستان سیٹیزن پورٹل کے بارے میں یہ خیالات ہیں ٹورونٹو میں مقیم ایک پاکستانی نوجوان کے۔    پاکستانیوں  کے لئے  وزیراعظم عمران خان نے 28   اکتوبر 2018کو عوامی شکایات سیل، پاکستان سٹیزنز پورٹل کا آغاز کیا، جس کامقصد عوامی شکایات کی داد رسی تھا ،پورٹل کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پہلی بار ملک کے عوام کے لئے جوابدہ بننے والی ہے۔اس پورٹل کے ذریعے عوام کی شکایات متعلقہ محکموں کو بھیجی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایپ حکومت کو وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کو سمجھنے کے قابل بنائے گی۔ پورٹل وزیر اعظم آفس میں قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد عوام کی شکایات کو بروقت حل کرنا اور ان کی آراء حاصل کرنا ہے۔  عالمی حکومتوں کے سالانہ  اجلاس میں منعقدہ موبائل ایپ مقابلے کے نتائج کے مطابق پاکستان سٹیزن پورٹل دنیا کی بہترین سرکاری موبائل ایپ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آئی جبکہ انڈونیشیا پہلے اور امریکہ کی ایپ تیسرے نمبر پر رہیں، اعداد و شمار کے مطابق اس پورٹل پرسب سے زیادہ  شکایت پنجاب کے شہریوں نے درج کروائی ہیں،شیخوپورہ کے رہائشی آیت اللہ سرا اب تک سٹیزن پورٹل میں 45 شکایات درج کرا چکے ہیں۔آیت اللہ نے کہا کہ ’ان شکایات میں سے 50 فیصد میں ہمارے علاقے میں ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور صفائی کا ذکر تھا، ایسی تمام شکایات پر جواب یہی ملا کہ اس وقت فنڈز نہیں ہیں اس لیے اس کام کے لیے گرانٹ نہیں دے سکتے، اگلے سال کا بجٹ آنے کا انتظار کریں۔ اعدادوشمار کے مطابق سٹیزن پورٹل پر رجسٹر ہونے والے صارفین میں طلبا کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔سٹیزن پورٹل پر رجسٹر شدہ صارفین میں سے 93.2 فیصد مرد حضرات ہیں، 6.6 فیصد خواتین ہیں۔پاکستان سیٹیزن پورٹل پر  اورسیز پاکستانیز اپنی شکایات کے اندراج کے لئے انتہائی سرگرم دکھائی دیتے ہیں اور ان کی شکایت کا مرکز زمینوں پر قبضہ  ہے،یہ شکایات  درج تو باقائیدگی سے کی جارہی ہین لیکن اس کے بعد شکایات کے فالو اپ کا پورٹل پر کوئی نظام موجود نہین،خاص طور پر قبضہ مافیاکے حوالے سے۔بد قسمتی سے ملک میں   لینڈ مافیا بہت زیادہ طاقتور ہے اور مبینہ طور پر انھیں سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے،اس سے متعلق   سٹیزن پورٹل پر  شکایت کے اندراج  کے بعد بھی مسائل حل نہیں ہورہے ہیں، زمینوں پر قبضے کے لیے جعل سازی سے نقلی کاغذات تیار کیے جاتے ہیں اور زمینوں کو فروخت کر دیاجاتا ہے۔ جب کہ اوورسیز پاکستانی ملک سے باہر اس ساری صور ِت حال سے لا علم ہوتے ہیں۔  پاکستان میں زمینوں پر قبضے کے قانون کو سخت کرنے اور سزائیں بڑھانے کی ضرورت ہے کیوں کہ قانون میں قبضہ گروہوں کی سزا بہت معمولی ہے۔ قابضین کو سخت سزائیں ملنی چاہیئں کیوں کہ لینڈ مافیا کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اوورسیز پاکستانی ان کا آسان ترین ہدف ہیں۔

3
0

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button