اہم خبریںپاکستاننقطہ نظر

تاریخی باچھیں

7
1

روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستانیوں نے خوب شادیانے بجائے اور لڈیاں ڈالیں مگر پھر جلد ہی سارا نشہ ہرن ہوگیا ۔ بالکل اسی طرح موجودہ صورتحال پر بھی کبڈی کھیلنے کے بجائے دھول بیٹھنے کا انتظار کرنا چائیے اور کسی جلد بازی کے جشن سے گریز کرنا چائیے اور اپنی امیدوں کو بھی لگام دینی چائیے ۔ ہم جلد بھول جانے والی قوم ہیں ۔ پچھلی شام پڑنے والا طمانچہ اگلی صبح بھول کر کسی ملتی جلتی وضع قطع والے میں نورالدین زنگی کا گمان کرتے ہوئے کی بار تاریخ کے ٹیلوں سے کھسک کر پھر وھیں آکھڑے ہوئے ہیں جہاں سے شروع کیا تھا ۔ عقل کا تقاضہ ہے کہ نہ امریکہ کو شکست خوردہ سمجھا جائے کیونکہ اپنی علم اور عقل کی بدولت وہ کسی اور شکل میں اس سب کا بدلا سود کے ساتھ لے سکتا ہے جس کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ بھارت نے تاریخ کو کئ بار پلٹہ دیا ہے اس لئے ہندوستان کو کسی طور ہلکا نہیں لینا چائیے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ چین کے ساتھ مل کر افغانستان میں موجود ہر خلاء کو ویسے ہی جلد از جلد پر کیا جائے جیسے اشرف غنی کے نکلنے سے پہلے ہی اور امریکہ کی تاریخوں سے قبل ہی طالبان نے کابل کی ہر گلی کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا اور ہمیں بھی اسی مدبرانہ سوچ اور عمل کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ طالبان قیادت کے طاقت میں آنے کے باوجود کیا ۔
ہماری باچھوں کی تاریخ بہت اذیت ناک ہے اس لئے ان کو بھی پھیلانے سے پہلے ماضی کے جھروکوں سے آس پاس جھانک ضرور لیں ۔

تاریخ کا یہ نیرنگی  اونٹ کس طرف بیٹھتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے اور وہ قومیں جو ہم ست صدیاں آگے سوچتی ہیں کب ان کا کوئی جوابی وار سیدھا ہماری کمر کے بیچو بیچ آہ لگے، کوئی پتا نہیں اس لئے کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں اور ملا عبد الغنی برادر کی طرح کامیابی کو مستقبل کے سائے میں چھپا کر رکھیں اور ملا ہیبت اللہ کی طرح تمام تر واقعات کو خاموشی سے پی جائیں اور اپنے حواس کو قائم اور پاؤں کو زمیں پر رکھیں۔

7
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button