اہم خبریںپاکستاننقطہ نظر

دلال

6
1

پچھلے جمعہ کی صبح کابل ائیرپورٹ سنسان پڑا تھا، کیونکہ عموماً جمعہ کو اکّا دکّا پروازیں ہوتی ہیں۔ اندرونِ ملک بھی طالبان کی پیش قدمی کی وجہ سے پروازوں میں بہت کمی آچکی تھی ، حالات بھی بدل رہے تھے چناچہ لوگ صرف مقررہ وقت کے ہی آس پاس آتے ہیں ۔ جمعہ کی نماز کے بعد کافی چہل پہل ہوگئی تھی ۔ بلوچی لباس سے ملتے جلتے افغان حلیے میں ایک جواں سال لڑکی تیزی سے وی آئی پی لاؤ نج کی طرف بڑھتی ہے اور ایک ادھیڑ عمر کا شخص اور دو عورتیں اس کے قریب آکر بیٹھتی ہیں کچھ دیر ان میں کھسر پھسر ہوتی ہے پھر گلے لگ کر کافی دیر تک تھپکیاں دیتی ہے اور تیزی کے ساتھ امیگریشن سے ہوتی ہوئی آریانہ افغان کی قطر جانے والی اسی پرواز سے دوحا روانہ ہوجاتی ہے جس پر دو دن بعد عبداللہ عبداللہ کو افغان حکومت کی طرف سے پژمردہ مزاکرات میں شرکت کے لئے جانا ہوتا ہے ۔ دوران پرواز وہ موبائل ہر آئی کچھ تفصیل اور بار کوڈ کو دیکھتی ہے اور اور فاتحانہ مسکراہٹ اس کے چہرہ پر بکھر جاتی ہے اور ایک تماشابین کی طرح نیچے سے گزرتی افغانستان کی سرزمین کو کھڑکی سے امنڈ امنڈ کر گھورتی ہے اور پھر اپنے موبائل فون سے کچھ تصاویر بنا کر آنکھیں موند لیتی ہے ۔
دوحہ میں اس کا قریبا بارہ گھنٹے کا انتظار تھا چناچہ وہ ٹرانزٹ ویزے کا فائدہ اٹھاتی کسی بظاہر مغربی طرز کے دو لوگوں کے ساتھ ہوٹل چلی جاتی ہے اور فلائیٹ سے تین گھنٹے قبل دوبارہ ائیرپورٹ پر آتی ہے ۔ اب قطر آئیرلائین کی پرواز ، فرینکفرٹ جانے کے لئے بالکل تیار تھی اور وہ لڑکی بار بار اپنے موبائل فون سے ہیمبرگ کی کچھ معلومات دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ کچھ احباب سے واٹس أپ پر بات چیت بھی ہورہی تھی اور تصاویر بھی بھیجی جارہی تھیں ۔ مگر اسے کچھ حیرت بھی ہوئی جب اس نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جو اسے وضع قطع اور شکل سے اپنے اپنے سے لگ رہے تھا ، اصل میں یہ کچھ بھی افغان لوگ تھے اور نجانے کیوں وہ بھئ کچھ ملتے جلتے جذبات کے ساتھ اس سفر پر جارہے تھے ۔
کئ گھنٹوں کی مسافت اسے دنوں پر محیط معلوم ہورہی تھی اور وہ اپنی منزل کو دیکھنے بے تاب تھی جس کے لئے اس نے اور اس کے خاندان نے ایک انتہائی محنت اور چالاکی سے ایسی کہانی تشکیل دی تھی جس کے قصے شاید اس کی عمر سے بھی ذیادہ ہوں
اس کہانی ہر دنیا میں ہر طرف نجانے کیا کیا لکھا جاچکا تھا اور اس کے دماغ میں یہ سارے واقعات کسی مہم جو فلم کی طرح چل رہے تھے جس کے کرکزی کردار میں وہ کسی “ونڈر ویمن” کی طرح رستے میں آنے والی ہر مشکل کو پچھاڑتی اور اپنے دشمنوں کے سروں پر اُڑتے ہوئے پاوں رکھتی جاتی اور پھر پاؤں کو مسلنے کے انداز سے گھما کر ان کے سر تن سے جدا کرتے چلی جاتی اس دوران وہ بار بار ذہن میں آتے والے کچھ خیالات کو موبائل پر یوں لکھتے جاتی کہ جیسے شاید اسے پھر کبھی یہ سوچنے اور لکھنے کا وقت نہ ملے اور اسے اپنی آنے والی کتاب کے لئے ان خیالات سے نکلتے الفاظ کی سخت ضرورت پڑے گی
اس کے چہرے پر بار بار شدید تعجب کے آثار نمودار ہوتے اور اسے یقین نہ آتا کہ اس نے اور اسکے خاندان جس کہانی کو تشکیل دیا وہ ایک سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی، جسے دنیا خبر سمجھتے رہی اور اپنے اپنے رنگ دیتی رہی اس کا اصل مطلب اُس کے موبائل میں موجود ایک تصویر میں چھپا ہے جو ذیادہ تر جرمن زبان میں لکھی ہے مگر وہ نہ سمجھتے ہوئے بھی خوب جانتی ہے کہ کیسے اس نے اپنے باپ کی پاکستان میں بطور سفیر تعیناتی کو کیسے استعمال کرتے ہوئے آنے والے وقت کا صحیح ادراک کیا اور افغانستان میں لگی آگ کو اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے ہی جرمنی میں موجود اثر و رسوغ کو اپنے ملک لے حالات اور پاکستان میں گھڑی گئ اس کہانی سے اپنی نئ منزل میں بدل دیا جسے اب جب تک لکیر کی طرح پیٹے گا اسے اتنا ہی مزہ آئے گا ۔
ایک سفیر باپ نے پاکستان سے اپنا بغض بھی نبھایا اور کئ دن تک پاکستان کی حکومت کو ایک معمولی سے خود گھڑی کہانی سے انگلیوں ہر نچاکر دنیا بھر میں جو ھمدردی سمیٹی اسے فورا اپنی اگلی منزل میں بدلتے ہوئے سب سے پہلے بیٹی کو سیاسی پناہ دلوائی اور اب خود چند دن تک رختِ سفر باندھ لینے کی تیاریاں ہیں۔
اپنی عزت اور وقار کے ایک حصے کا جزوی سودا کرکے ایک اچھی قیمت وصول کرنا ایک طرف تو پر مزاح کامیابی ہے اور دوسری طرف یہ ایک جدید دلالیت ہے جس میں میزبان ریاست کہ دامن پر اپنی غلیظ سوچ کی پچکاری پھینک کر اپنی عارضی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسا معیوب کام کیا ، جس کا مقصد بالکل ذاتی اور حقیر تھا مگر جس کے حصول کے لئے رستے میں آتی ہر اخلاقیات کو بے دردی سے تار تار کیا گیا اور یہی دلالیت کے بنیادی اصول ہیں ۔ محض جرمنی میں سیاسی پناہ کے لئے ایک سنگین مزاق اور اغواء کا ڈرامہ رچایا گیا مگر حیرت اس بات ہر ہے کہ دنیا کی جانی مانی سراغ رساں ایجنسی مار خور کے اتنے سادہ شکار کو اپنی ناک تلے بے نقاب نہ کرسکی ۔

6
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button