نقطہ نظر

پاکستان کو پرفیکٹ بنانا پڑے گا

11
0

تحریر / ذکاءاللہ محسن

کسی بھی ملک کا امیر اور غریب ہونا بلکل ویسے ہی ہے جیسے ہر ملک میں امیر اور غریب طبقے پائے جاتے ہیں اور غریب کبھی خود امیر بننے کی جدوجہد کرتا ہے کبھی حکومتیں اسے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں اور وہ غربت سے نکل آتا ہے غریب ملک بھی اپنے کم وسائل کو بہتر منصوبہ بندی کرکے اور دنیا کے دیگر ممالک سے اچھے تعلقات کو بڑھاوا دیکر اپنے وسائل کو بہتر طور پر بروکار لاتے ہیں اور دنیا کے ساتھ اپنے سسٹم کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے بہتری کی راہ اپناتے ہیں-

کوئی بھی ملک پرفیکٹ نہیں ہوتا اسے پرفیکٹ بنانا پڑتا ہے اور اسکے لئے وہ محنت کرنی پڑتی ہے جو اسے مکمل کر دے اور اسکو دنیا کے مہذب معاشروں میں اہمیت دلائے آج کے جدید دور میں ملکوں کی ترقی کا انحصار معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر ایسی کئی چیزوں سے بھی وابستہ ہے جو فی الحال ہماری آنکھ سے اوجھل ہیں ہمیں نا تو اس کا ادراک ہے اور نا ہی اس کی سمجھ بوجھ ہے ہمارے ہاں معاشی بحران کے ساتھ دیگر ایسی چیزوں کا بھی فقدان ہے جو یقیناً ہماری تنزلی اور پستی کی ذمے دار ہیں ہمارے ہاں شاید شروع سے ہی اس کی کمی رہی ہے کہ اس جانب ہماری توجہ ہی نہیں گئی ہے دنیا بھر کی طرح ہمارے ہاں بھی وہ سب کچھ ہے مگر اس کو بس شروع کرنے کی دیر ہے جس، سے ہماری معاشی ترقی کے علاوہ دنیا میں عزت و تکریم بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے-

میری آج کی تحریر میں بڑی عام سی باتیں ہیں مگر خاص بھی ہیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ کوئی بھی ملک پرفیکٹ نہیں ہوتا اسے پرفیکٹ بنانا پڑتا ہے تو اس کی ایک مثال میں نے سعودی عرب میں رہ کر سعودی قیادت سے سیکھی ہے شعبہ صحافت میں ہونے کی وجہ سے میری اس پر نظر پڑی اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ایسا کوئی دن خالی نہیں جاتا ہے کہ جب وہ روزانہ کی بنیاد پر دنیا کے اندر کسی ملک کے قومی دن کے موقعے پر اس ملک کی عوام کو اس ملک کی قیادت سے رابطہ کرکے مبارکباد کا پیغام نا دے رہے ہوں یا وہ کسی سانحے پر افسوس کا اظہار یا کسی ملک کی کامیابی پر اس کو نیک خواہشات کا پیغام نا پہنچا رہے ہوں اس سے سعودی عرب کی قیادت دنیا بھر سے اپنے تعلقات کو مضبوط بناتی ہے اور دنیا بھر کے سربراہان سے اپنی دلی وابستگی کا پیغام پہنچا کر دوستی اور دو طرفہ تعلقات کو فروغ دیتی ہے سعودی قیادت کی جانب سے ہر چھوٹے اور بڑے ملک کو روزانہ کی بنیاد پر کبھی ٹیلی فونک رابطہ اور کبھی پیغامات پہنچائے جاتے ہیں اور اس کے واقعی دور رس نتائج نکلتے بھی ہیں اور سامنے بھی آتے ہیں-

ہماری موجودہ پاکستانی قیادت کو اس پر عمل کرکے دنیا بھر میں اپنے دوست ممالک کی صف میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں کسی بھی ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نئی تحقیق جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی ہے اور دنیا اس ملک کی جانب متوجہ ہوتی ہے اور دنیا کے ساتھ اسکی نئی راہیں ہموار ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے بلکے ہمارے ہاں ذہنوں کو اتنا زنگ آلود کر دیا گیا ہے کہ نئی تخلیق کی شاید اب گنجائش باقی نہیں رہی ہے مگر ماحول کو سازگار بنایا جائے تو

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی

کھیلوں کے میدان میں جیت بھی کسی بھی ملک کی عزت اور اس کے وقار میں اضافہ کرتی ہے اور اگر یہ جیت عالمی مقابلوں میں ہو تو پھر اس کے مقابلے میں شہرت بھی عالمی سطح کی ہوتی ہے ہمارے ہاں ہاکی قومی کھیل تو ہے مگر ہاکی کی اس قدر زبوں حالی ہوچکی ہے کہ ہاکی اور خاندان مغلیہ ایک ہی نصیب سے تعبیر کیے جاسکتے ہیں حالیہ جاری ٹوکیو اولمپکس میں ہمارا ” دشمن ” ملک ہاکی کے میدان میں مردوں اور خواتین کی ٹیموں کی تیسری تیسری پوزیشن حاصل کرکے عزت کما گیا اور ہماری ہاکی کی ٹیم قصے کہانیوں کی نظر ہوگئی اسی طرح دیگر کھیلوں میں ہمارے ہاں کوئی کھلاڑی ٹیلنٹ سے بھرپور ہے تو اس کو حکومتی سطح پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس کو وہ سہولیات فراہم ہی نہیں کی جاتیں جو اس کی کامیابی کو یقینی بنائے اور یوں ہم سے بھی غریب ممالک کے کھلاڑی اپنے ملک کے لئے عالمی سطح پر عزت حاصل کر لیتے ہیں جس سے اس ملک کا قد کاٹھ دنیا میں بلند ہوتا ہے ہماری کرکٹ بھلے ہی اچھی ہے مگر اس پر بھی سپاٹ فکسنگ جیسے الزامات سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے مگر کرکٹ سے پھر بھی ہمیں دنیا بھر میں مثبت انداز کے ساتھ دیکھا جاتا ہے جو کہ ایک خوش ائین بات ہے-

دنیا کے بیشتر ممالک اپنے میڈیا کے ذریعے اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں چھپے ٹیلنٹ کو ابھارتے ہیں اسے اجاگر کرتے ہیں اور پھر اسے دنیا بھر میں نمایاں کرکے اپنے ملک کی عزت بڑھاتے ہیں مگر ہمارے ہاں یہاں بھی الٹی گنگا بہتی ہے اور سارا سارا دن ہمارا میڈیا بریکنگ اور لائیو میرتھن ٹیلی کاسٹ جاری رکھتا ہے اور سیاستدان کی ننگی اور غلیظ گالیاں اور باتیں بھی عوام کو لائیو سناتا ہے حالانکہ میڈیا کا کام پورے ایونٹ کو کور کرکے اس میں سے خبر کو بطور خلاصہ پیش کرنا ہوتا ہے مگر ہمارا میڈیا اور ہمارا سیاسی نظام ایک ہی گھڑے کی دو مچھلیاں ہیں جو ملکر ملک کا بیڑہ غرق کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہی تو وجہ ہے کہ ان کو ” ہوش ” نہیں آتی یہ منفی سوچ کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ میڈیا ہر وقت اسکینڈل ڈھونڈنے کے در پہ ہے اور سیاست دان ایک دوسرے کو ننگا کرنے کے چکر میں رہتے ہیں اور تماشہ دیکھتی ہے پوری دنیا اور ہمارے میڈیا سمیت سیاست دان جب انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کی عزت بحالی کی بات کرتے ہیں تو اس پر کبھی ہنسی آتی ہے اور کبھی افسوس ہوتا ہے-

چندروزبعد چودہ اگست آ رہا ہے ہمارے صدر مملکت اور وزیراعظم سمیت دیگر سیاست دان اس دن کو تجدید عہد قرار دیکر پاکستان کوآگے بڑھانے کے لئے عہد کریں گے مگر پندرہ اگست کو نا تجدید رہے گا نا عہد رہے گا اور نا ہی کوئی وعدہ یاد رہے گا پاکستان ایک باوقار اور طاقتور ملک اگر ایٹم بم کی موجودگی میں نہیں بن پایا ہے تو یاد رکھئیے کھوکھلی باتوں سے بھی بننے والا نہیں ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ قوم کو ہجوم کہنا بند کرنا ہوگا قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے کی بجائے اسے پاکستان کے پرچم تلے یکجان کرکے اس کی تربیت کرنا ہوگی تاکہ جہاں ہماری حکومتیں ملک کو مثبت سوچ کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن کریں وہیں عوام بھی کسی تعصب اور محرومیوں کاشکار ہوئے بغیر پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار نبھا سکے ہمارے سیاسی اور عسکری لیڈران کو چاہئیے کہ وہ اب دنیا سے اچھی باتوں کو سیکھیں اور ان پر عمل کرکے عوام کے لئے بھی عملی نمونہ بن جائیں منفی رویوں سے آج پورا پاکستان برباد ہوچکا ہے اب اس کو بچانا ہے تو مثبت رویے اپنانے ہونگے اوردنیا سے اچھی باتیں سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا…

11
0

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button