اہم خبریںپاکستانسمندر پارپاکستانینقطہ نظر
Trending

اسلام آباد میں سیلاب – حیران کیوں ہوں، افسوس کس بات کا؟

32
3

وقت کرتا ہے پرروش برسوں
حادثہ کوئی یکدم نہیں ہوتا

اسلام آباد کی E11 سیکٹر میں جو کچھ ہوا وہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرت کے ساتھ کئے گئے ہر کھلواڑ کا خمیازہ ایک نہ ایک دن بھگتا پکڑتا ہے اور اس کا محاسبہ آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ہوتا ہے ۔
چند باشعور لوگوں نے 2011 میں مسلم لیگ ن کے انجم عقیل خان اور اسلام آباد کے کرپٹ ترین ادارے CDA کی ملی بھگت کا عندیہ دے دیا تھا جب E11 میں ذیادہ تر اور دوسرے سیکٹرز میں بھی ندی نالوں کی بھرائی کرکہ زبردستی زمینیں بنا کر ان پر کنکریٹ کے اندھے گھر اور لنگڑی تعمیرات کرکہ عقل سے عاری حرص کی ماری قوم کو مہنگے داموں فروخت کردئیے ۔ نہ بیچنے والے کے دل میں رحم آیا نہ خریدنے والے نے دیکھا کہ اردگرد کے پہاڑوں کا پانی کہاں سے نکلے گا؟ نہ دیکھا کہ قبرستان کی جگہ بھی مکان بنا دئیے نہ دیکھا کہ پارک بھی پلاٹوں میں ڈال دئیے ۔ یعنی چوری کا مال بوری میں کے مصداق ایک غیر فطری عمل، ستّو پی کر سوتی حکومت کے ناک تلے انجام ہوگیا ۔

آج نہ لوگوں کو کوئی حق پہنچتا ہے کہ وہ حکومت سے شکوہ کریں نہ ہی ہمیں ایسے جاہل عوام کے لئے آواز اٹھا کر اپنا وقت برباد کرنا چائیے
بس اتنا ہوسکتا ہے کہ اس سے سبق سیکھا جائے اور ندی نالوں کے رستوں میں سے تجاوزات ہٹائی جائیں اور باقائدہ ٹاون پلاننگ کے ساتھ تعمیرات کی جائیں مگر تاریخ سے سبق سیکھنے کی گھٹی نہ ہمیں ماں باپ سے ملی نہ ہماری تربیت اور جبلت میں ہے چناچہ قوی امکان ہے کہ خدا نخواستہ ہم مستقبل قریب میں کسی اور ایسے المیہ پر لکھ رہے ہوں ۔

اس لئے حکومت اور عوام کی دانستہ جہالت پر نہ تو ہمیں حیرت ہے نہ اسقدر جان بوجھ کر کی گئ بے حسی پر ہمیں کوئی افسوس ہونا چائیے ۔ کیونکہ جو آپ نے جانتے بھوجتے بویا تھا اب توقع کے عین مطابق آپ کاٹ رہے ہیں ۔ اور آپ اب بھی سیکھنے کو تیار نہیں ہیں اور مستقبل میں بھی خود کشی پر تلے ہیں تو ہم آپ کی ناعاقبت اندیشیوں پر افسوس کرکہ اپنا وقت کیوں ضائع کریں؟

32
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button