اہم خبریںپاکستاننقطہ نظر

ہم نے عارف نظامی سے کیا سیکھا ۔ مختصر تحریر

(ظفر اقبال خان)

9
0

صحافت کے نظرئیے کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ میں محض چند نام ہی سامنے آتے ہیں اور ان میں مجید نظامی بہت نمایاں ہیں۔ عارف نظامی اُن کے ہی فرزندِ ارجمند تھے، ابتداء سے ہی کچھ اصول پسند واقع ہوئے چناچہ اندرونِ خانہ مسائل کی وجہ سے والد صاحب کی سب سے بڑی میراث “نوائے وقت” کے وارث نہ بن سکے کیونکہ توانائی ضد کے بجائے محنت پہ صرف کرنے کے قائل تھے ۔ دن رات مشقت سے پہلے تو “دی نیشن” اخبار کی بنیاد رکھی پر “پاکستان ٹوڈے” جیسے شہرہ آفاق روزنامے کے بانی کہلائے ۔ والد صاحب نے اردو اور بیٹے نے انگریزی صحافت کے میدان میں نئے سنگِ میل عبور کئے اور خود اپنی محنت سے اپنا نام جلّی الفاظ میں تحریر کروایا ۔

من الحیث القوم اور فرد ہمیں ایک بہت بڑا سبق بھی دے گئے کہ وراثتی لڑائیوں کے بجائے اگر ہم اپنی توانائیاں مثبت طرف استعمال کریں تو میراث سے بڑھ کر حاصل کرسکتے ہیں…
اللہ پاک مرحوم کے حق میں ہماری دعائیں قبول فرمائے اور درجاتِ جناب بلند فرمائے ۔ آمین ۔
(ظفر اقبال خان)

9
0

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button